نیک روحوں کا مسیحا

shutterstock_144636683

میں تمام نیک روحوں کا مربی اور سرپرست ہوں. میاں فرہاد مصطفیٰ کی روح کا، عائشہ بیگم کی روح کا اور تمھاری روح کا بھی زینب.’ اس کے چہرے پر بدستور وہ شفیق مسکراہٹ رقصاں تھی
میں ایک دفعہ تو کانپ ہی اٹھی
‘آپ موت کا فرشتہ ہیں؟ روح قبض کرنے آتے ہیں یہاں؟’
اس کی مسکراہٹ کچھ اور نمایاں ہوگئ
نہیں زینب میں موت کا فرشتہ نہیں ہوں، میں روحیں قبض نہیں کرتا. میں روحوں کی مسیحائی کرتا ہوں. لیکن صرف نیک روحوں کی مسیحائی

 

میرا نام زینب ہے اور میں پیشے کے اعتبار سے نرس ہوں. بلکہ نرس تھی کہنا چاہئے. بہت مشکل زندگی گزاری ہے میں نے. انیس سال کی تھی جب ماں باپ کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا. چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری میرے سر پر آ کر پڑ گئ. جب ماں باپ کا انتقال ہوا تو میں نرسنگ کے آخری سال میں تھی. ایک چھوٹی خالہ نے بڑھ کر ذمہ داری سنبھالی. لیکن جب میں کورس مکمل کر چکی تو انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا. خوشقسمتی سے جس ہسپتال میں کورس کر رہی تھی، وہیں پر نرس کی نوکری مل گئ. یوں میری تنخواہ سے گھر کا خرچہ چلنے لگا

 

شادی کی نا کوئی خواہش تھی نا ہی کوئی امید. بہن بھائیوں میں یوں تو کوئی بھی ایسا خوبصورت نہیں تھا مگر میرے اوپر بنانے والے نے خاص کرم کیا تھا. وزن بہت زیادہ تھا اور تھا بھی ایسا کے چھ چھ مہینے کے روزے کیوں نا رکھ لیتی، کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا. رنگ ایسا تھا کے جیسے لاہور میں نہیں بلکہ افریقہ کے کسی قبیلے میں پیدا ہوئی تھی. رہی سہی کسر چیچک کے داغوں نے پوری کر دی تھی. لے دے کر ایک دل ہی تھا جو لوگوں کے مطابق بہت اچھا تھا. لیکن اسی دل کی نرمی نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا تھا. جب ایک آدھ جگہ سے، میری تنخواہ کی وجہ سے رشتہ آیا بھی، تو میں نے انکار کر دیا. انکار نا کرتی تو اور کیا کرتی، سر پر چھوٹے چھوٹے تین بھائیوں اور دو بہنوں کی ذمّ داری جو سوار تھی

 

اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر میں اپنی نوکری میں جت گئ. بھائیوں اور بہنوں کو پڑھایا لکھایا، نوکریوں اور چھوٹے موٹے کاروبار کا بندوبست کیا اور پھر ان سب کی شادیاں کیں. آہستہ آہستہ سب کے گھر بار الگ ہوگئے اور میں اس دو کمروں کے کوارٹر میں اکیلی رہ گئ. بہن بھائی عید شب برات پر آتے اور عیدیاں سمیٹ کر لے جاتے. مجھے تو اچھا ہی لگتا. میں نے بھلا کس کیلئے پیسا جوڑنا تھا. میرے تو بال بھی آدھے سفید ہوچکے تھے

 

پھر ایک دن ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران میری دایئں چھاتی میں شدید درد اٹھا. درد تو پہلے بھی اٹھتا تھا جو میں بڑھاپے کی نشانی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی تھی، لیکن اس دن تو حد ہوگئ. چیک اپ وغیرہ کرانا ہی پڑا. پتا لگا کے چھاتی کا سرطان تھا. جب صحت زیادہ ہی خراب ہوگئ تو ہسپتال والوں نے نوکری سے فارغ کر دیا. نوکری سرکاری تو تھی نہیں کے کوئی پنشن وغیرہ ملتی. تھوڑا بہت جمع جتھہ جو بھی تھا، علاج پر لگ گیا. مجبور ہو کر بھائیوں سے رابطہ کیا. انہوں نے پہلے تو تھوڑی بہت مدد کی مگر کیا کرتے، وہ خود کوئی ایسے خاص امیر نہیں تھے. آہستہ آہستہ میری حالت اتنی خراب رہنے لگی کے کوارٹر سے نکلنا دوبھر ہوگیا

 

میری حالت دیکھ کر بھائیوں نے فیصلہ کیا کے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا تھا. لہٰذا کوارٹر بیچ کر پیسہ آپس میں تقسیم کر لیا اور مجھے ایدھی والوں کے حوالے کر دیا. آج کل میں ایدھی کے قائم کئے گئے ایک خیراتی دارلامان میں، زندگی کے آخری دن گن گن کر گزار رہی ہوں. ہر رات کی خاموشی میں جب کوئی آہٹ ہوتی ہے تو مجھے سماعیل کی آمد کا گمان گزرتا ہے

 

سماعیل کون تھا اور میرے لئے اتنا اہم کیوں ہے؟

 

سماعیل سے میری ملاقات تب ہوئی جب میں اب سے کچھ عرصہ قبل، لاہور کے ایک مشہور، بیحد مہنگے اور پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں سینئر نرس تھی. میری عمر اور پیشہ وارانہ مہارت کو مد نظر رکھتے ہوئے، ہسپتال کی انتظامیہ نے مجھے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں متعیّن کر رکھا تھا

 

انتہائی نگہداشت کا شعبہ ایک ایئر کنڈ یشنڈ ہال نما کمرے میں قائم تھا. تقریباً پندرہ بستر لگے ہوئے تھے جن میں سے ایک وقت میں تقریباً دس بستر ہر وقت، پر ہوتے تھے. داخلی دروازے کی بغل میں، ڈیوٹی نرسوں کیلئے بنایا گیا شیشے کا ایک کیبن تھا. چوبیس گھنٹے دو نرسوں کی ڈیوٹی رہتی تھی

 

مجھے مطالعہ اور تنہائی سے بیحد لگاؤ تھا، لہٰذا میں زیادہ تر جان بوجھ کر اپنی ڈیوٹی، رات کے وقت لگواتی تھی. رات کو میرے شعبہ میں، ایک عجیب سا سرد سکوت طاری ہوتا تھا. دھیمے ملگجے ماحول میں، تمام مریض نشہ اور سکون آور دوائیوں کے زیر اثر، آرام سے سوئے ہوتے تھے. وارڈ کی خاموش فضاء میں صرف سرد ہوا کی سرسراہٹ یا پھر مشینوں کی دبی دبی سیٹیاں گونج رہی ہوتی تھیں

 

میرے شعبہ میں بہت ساری راتیں ایسی بھی گزرتیں کے جب کسی مریض کے جانے کا وقت قریب ہوتا تھا. کچھ تو بیچارے خاموشی سے سوتے ہی میں گزر جاتے تھے، لیکن کچھ لوگوں کے آخری لمحات بہت تکلیف دہ ہوتے تھے. جب انکو یہ اندازہ ہوجاتا تھا کے موت کا فرشتہ بس آنے کو ہے، تو انکی آنکھوں میں ایک مہیب خوف ڈیرے ڈال دیتا. موت کا خوف اور زندگی سے بچھڑنے کا خوف

 

کبھی کبھی ایسے مریضوں کی حالت دیکھ کر مجھے حیرت بھی ہوتی کہ اتنی عمر گزر جانے کے بعد اور اتنی بیماریوں اور اپنے پیاروں کی بیوفایوں کے باوجود، انکو زندگی کی خواہش تھی. لیکن اب جبکہ میں خود اسی حالت سے گزر رہی ہوں، مجھے احساس ہو چلا ہے کے شاید زندگی کی خواہش تو نہیں، البتہ موت سے ڈر ضرور لگتا ہے. میں جب بھی قبر کی تاریکی اور دائمی تنہائی کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرا دل کانپ جاتا ہے

 

نرسنگ ہوم میں اس رات بھی کچھ ایسا ہی سلسلہ تھا. بیڈ نمبر نو پر لیٹے مریض کا نام میاں فرہاد مصطفیٰ تھا. بیحد امیر کبیر اور نیک اور خیرات کرنے والے آدمی تھے، لیکن فالج ہونے اور اسکے بعد کی پیچیدگیوں کے بعد، انکے بیٹے ان کو نرسنگ ہوم چھوڑ گئے تھے. میاں صاحب کی حالت بہت خراب تھی. پچھلی ڈیوٹی نرس نے مغرب سے پہلے ہی انکے بیٹوں کو اطلاع کر دی تھی. لیکن آدھی رات گزر چکی تھی اور میاں صاحب کے بیٹوں کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا

 

بہت تکلیف میں تھے بیچارے. رہ رہ کر کراہ رہے تھے. ڈاکٹر صاحبہ دو دفعہ آ کر پین کلر کے انجکشن دے چکی تھیں، لیکن تکلیف کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. جاتے جاتے ڈاکٹر میرے کان میں سرگوشی کر چلی تھی کے میاں صاحب کا آخری وقت آن پہنچا تھا. میں انکے سرہانے کھڑی تھی اور اس انتظار میں تھی کے کب انکی تکلیف کچھ کم ہو اور میں اپنے کیبن میں واپس جاؤں

 

.میاں صاحب! میاں صاحب!’ میں نے نرم تولئے سے انکی پسینے میں شرابور پیشانی پونچھتے ہوئے کہا’
بہت تکلیف ہے سسٹر. یوں لگتا ہے کے جیسے ایک ایک خلیئے سے کوئی جان کھینچ کر نکال رہا ہو.’ انہوں نے کراہتے ہوئے کہا
مجھے علم ہے میاں صاحب. بس تھوڑا صبر کریں. ڈاکٹر نے ابھی دوسرا انجکشن لگایا ہے. تھوڑی دیر میں آرام آ جائے گا.’ میں نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا
کوئی آرام نہیں آئے گا. بس میں ابھی جانے ہی والا ہوں.’ میاں صاحب نے بے چینی سے سر ادھر ادھر مارتے ہوئے کہا
.آپ کہیں نہیں جا رہے. یہیں رہیں گے ہمارے پاس. بس تھوڑا صبر سے کام لیں.’ میں نے شفقت سے کہا’
میں مرنے والا ہوں سسٹر. مجھے اس بات کا اچھی طرح علم ہے. لیکن مجھے مرنے سے ڈر لگتا ہے.’ مجھے انکی آنکھوں میں ننھے بچوں جیسا ڈر جھلکتا نظر آیا
آپ بہت نیک آدمی ہیں میاں صاحب. یوں تو ابھی بہت زندگی باقی ہے آپکی لیکن اگر فرض کریں کے آپ مرنے والے بھی ہوں تو کیا ڈر؟ مجھے یقین ہے کے آپ کیلئے، خدا نے جنّت میں ایک بہت اچھی جگہ رکھ چھوڑی ہے.’ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
مجھے خدا پر گہرا یقین ہے. لیکن مجھے مذہب پر کوئی یقین نہیں.’ میاں صاحب نے میری طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا. ‘یہ جنّت دوزخ سب بکواس ہے
اب میں ایک مرتے ہوئے آدمی کو کیا کہتی
‘میاں صاحب پھر تو بالکل ڈرنے کی کوئی بات نہیں’
ڈرنے کی بات ہے سسٹر.’ میاں صاحب نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا. ‘جب یہ پتا ہی نہیں کے مرنے کے بعد کیا ہوگا، تو ڈرنے کی بات تو ہے نا؟
کچھ نہیں ہوگا میاں صاحب. بس آپ سونے کی کوشش کریں.’ میں نے محسوس کیا کے میاں صاحب آہستہ آہستہ بیہوشی کی آغوش میں جا رہے تھے

تھوڑی دیر کے بعد انجکشن کا اثر گہرا ہوگیا اور میاں صاحب تقریباً بیہوش ہوگئے. لیکن بیچارے بیہوشی میں بھی، تکلیف سے ہلکے ہلکے کراہ رہے تھے. میں واپس اپنے کیبن میں آ کر بیٹھ گئ اور ایک کتاب کھول لی

 

.کیا ہوا میاں صاحب کو؟ مر گئے یا سو گئے؟’ میرے ساتھ کرسی پر بیٹھی نرس رضیہ کی آنکھ کھل گئ’
وہ بیچاری بھی تکلیفوں کی ماری تھی. ابھی عمر کم تھی لیکن اوور ٹائم لگا کر اپنی شادی کیلئے جہیز جمع کر رہی تھی. میرے ساتھ ڈیوٹی پر ہوتی تو میں اسے سونے کا کہ دیتی. مجھے تو یوں بھی جاگنے کی عادت تھی

بکواس نا کرو. سو گئے ہیں. بہت تکلیف ہے آج. تم بھی سو جاؤ اور مجھے کتاب پڑھنے دو.’ میں نے مسکراتے ہوئے کہا
.او کے باس!’ اس نے شوخی سے کہا، کاؤنٹر پر پیر رکھے اور پھر سے انٹاغفیل ہوگئ’

 

ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے وارڈ کا دروازہ آہستگی سے کھلا. میں نے متجسس ہوکر دیکھا کے اسوقت کون ڈاکٹر آگیا. لیکن دروازے سے ایک ایسا انسان داخل ہوا جو حلیئے سے کچھ اور ہی دکھائی دے رہا تھا. وہ کوئی بہت بوڑھا آدمی تھا. اس نے سر پر پرانے وقتوں کا کالا ہیٹ پہنا ہوا تھا، جس کے گوشوں سے اس کے چاندی جیسے سفید بال نکل کر، کندھوں پر پھیلے ہوئے تھے. بالوں کے ساتھ ہی میری نظر، اس کے کانوں کی لووں سے لٹکتی، چاندی کی سادہ بالیوں پر پڑی. ‘عجیب آدمی ہے. مردوں کو بالیاں ویسے بھی اچھی نہیں لگتیں اور وہ بھی اس عمر میں بھلا کون پہنتا ہے؟’ میں نے سوچا. اس نے ایک کالے ہی رنگ کا لمبا لیکن بوسیدہ اوورکوٹ پہن رکھا تھا

 

دروازے سے داخل ہو کر اس نے میری طرف دیکھا اور ہلکے سے مسکرا کر، ہاتھ کی انگلیوں سے اپنے ہیٹ کے کونے کو چھوا. کالی گہری آنکھیں تھیں اسکی، جو سفید گھنی بھنووں تلے چمک رہی تھیں. جھریوں بھرے چہرے پر ایک لمبی سی ناک اور مسکراتے ہونٹوں کے گوشوں سے لٹکتی مونچھیں، اور اسکے نیچے ایک مختصر سی داڑھی

یا خدا! کس قدر اداس مگر دلنشیں مسکراہٹ ہے اس شخص کی.’ یوں تو اسکا پورا حلیہ عجیب وغریب تھا، لیکن اسکی مسکراہٹ دیکھ کر میں صرف اتنا ہی سوچ سکی

 

میں کیبن سے نکل کر اس سے اسکے آنے کا مقصد پوچھنا ہی چاہ رہی تھی کے اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر، مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا، میاں صاحب کے بیڈ کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا. میں چپ چاپ کھڑی دیکھتی رہی. اس نے آہستگی سے پھر اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور ہیٹ کے گوشے کو چھوا. میاں صاحب نے یوں آنکھیں کھولیں جیسے وہ اسی کے منتظر تھے اور ہلکے سے مسکرائے. ان کے چہرے پر ایسی بشاشت آ گئ کے جیسے کبھی بیمار کبھی تھے ہی نہیں

 

ہمارے نرسنگ ہوم کے قوانین کے مطابق، ملاقات کا وقت رات دس بجے تک تھا. لیکن میاں صاحب کی حالت کے پیش نظر، میں خاموش رہی. وہ شخص غالباً انکا کوئی دیرینہ دوست یا بھائی تھا. مجھے انکی ملاقات کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں لگا. میں نے دیکھا کے اس شخص نے ایک کرسی، آرام سے گھسیٹ کر بیڈ کے قریب کرلی تھی. وہ اس پر بیٹھ گیا اور نرمی سے میاں صاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر سہلانے لگا. پھر وہ آہستہ آہستہ سرگوشیوں میں کچھ گفتگو کرنے لگے. میں نے دیکھا کے اس شخص کی گفتگو سے، میاں صاحب کے چہرے پر سکون چھاتا جا رہا تھا جیسے وہ کوئی لوری سنا رہا ہو

 

تقریباً ایک گھنٹہ گزر چکا تھا. وہ شخص میاں صاحب کا ہاتھ تھامے ویسے ہی بیٹھا تھا. میاں صاحب کی آنکھیں بند تھیں اور ان کے چہرے پرسکون ہی سکون تھا. اچانک میری نظر کیبن میں لگی ایمرجنسی لائٹوں کے بورڈ پر پڑی. وہاں ہر مریض کے بیڈ کیلئے ایک سرخ لائٹ لگی ہوئی تھی. یہ لائٹ اسوقت جلتی تھی جب مریض کے جسم سے منسلک مشینیں، مریض کی حالت میں کوئی واضح تبدیلی یا خطرناک صورت حال محسوس کرتی تھیں. اس وقت میاں صاحب کے بیڈوالی لائٹ مسلسل جل بجھ رہی تھی. میں نے حیرانی سے دوبارہ بیڈ کی طرف دیکھا لیکن وہاں کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں تھی. خیر چیک کرنا میرا فرض تھا

 

میں کیبن سے نکل کر میاں صاحب کے بیڈ تک چلی گئ. ہارٹ مانیٹر ایک سیدھی لکیر دیکھا رہا تھا. بلڈ پریشر اور نبض سب زیرو تھے. ‘شاید ہاتھ ہلانے سے انگوٹھے کا کلپ اتر گیا ہے.’ میں نے یہ سوچ کر جھک کر معائینہ کیا. سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا

.تردد نا کرو بیٹی. میاں صاحب رخصت ہو چکے ہیں.’ اس بوڑھے شخص نے نرمی سے کہا’

میں نے چونک کر گلے میں لٹکا سٹیتھو سکوپ میاں صاحب کے سینے سے لگایا مگر وہاں صرف خاموشی راج کر رہی تھی. میاں صاحب واقعی وفات پا چکے تھے. میں نے اس بوڑھے آدمی کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور دوڑ کر ڈیوٹی ڈاکٹر کو بلانے چلی گئ. مگر جب واپس آئ تو وہ بوڑھا شخص جا چکا تھا

 

اس بوڑھے شخص کا معاملہ بہت عجیب و غریب تھا. وہ کون تھا؟ کہاں سے آیا تھا؟ کہاں چلا گیا تھا؟ کوئی نہیں جانتا تھا. نرسنگ ہوم کے گیٹ یا داخلی دروازے پر اسکا کوئی ریکارڈ نہیں تھا. مرحوم میاں صاحب کے بیٹوں کو بھی ایسے کسی دوست یا بھائی کے بارے میں معلوم نہیں تھا. نرسنگ ہوم کی انتظامیہ نے تو اس واقعہ کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا کیونکہ میاں صاحب کی وفات قدرتی تھی. لیکن مجھے تجسّس آرام سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا. اتفاق سے میرا اپنا ایک دور کا رشتے دار، نرسنگ ہوم کے سیکورٹی عملے میں تھا. میں نے ایک دن اس کے ساتھ بیٹھ کر دھیان سے، سیکورٹی کیمروں کی اس رات کی پوری فوٹیج دیکھی. مگر کہیں اس بوڑھے شخص کا نام و نشان نہیں تھا. خیر وقت گزرنے کے ساتھ وہ بوڑھا شخص بھی میرے شعور سے نکل کر لاشعور میں چلا گیا

 

میری دوسری ملاقات اس بوڑھے شخص سے اس رات ہوئی جس رات عائشہ بیگم اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہیں تھیں. عائشہ بیگم ملک کی ممتاز سوشل ورکروں میں سے ایک تھیں. وہ واقعی نیک خاتون تھیں جو دکھاوے اور نمود و نمائش سے زیادہ، غریبوں کی خدمت میں دلچسپی لیتی تھیں. بڑھاپے میں بدقسمتی سے جگر کی بیماری کا شکار ہوگیئں. شادی شدہ نہیں تھیں. رشتہ داروں نے لا کر یہاں ہمارے نرسنگ ہوم میں داخل کرا دیا اور پھر انہیں بھول گئے. میاں صاحب کی طرح انہیں بھی مذہب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی. جب کبھی حالت کچھ بہتر ہوتی، تو میرے ساتھ گئ رات تک خدا اور مذہب پر گپیں لگاتیں. بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں اور ان کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر مجھے بھی یہ احساس ہونے لگا تھا کے دین اور مذہب سب ڈھکوسلا ہے

 

خیر بات ہورہی تھی عائشہ بیگم کی آخری رات کی. میں رات کو آخری بار انجکشن لگانے کیلئے ان کے پاس گئ تو کہنے لگیں
‘زینب! مجھے مرنے سے بہت ڈر لگ رہا ہے. پتا نہیں کیا ہوگا؟’
کچھ نہیں ہوتا آپ کو عائشہ آپا. آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں.’ میں نے مسکراتے ہوئے ان کے کینولے میں انجکشن لگاتے ہوئے کہا
نہیں زینب! آج کی رات میں چلی جاؤں گی. لیکن جب جانے لگوں گی تو تمھیں بلا لوں گی. تم آ کر میرا ہاتھ پکڑ لینا. تب تک نا چھوڑنا جب تک میری سانسیں بند نا ہوجایئں.’ انہوں نے تقریباً گڑگڑا کر کہا تو میں نے انکا ہاتھ چوما، اقرار میں سر ہلایا اور کیبن میں چلی گئ

 

اتفاقاً اس رات بھی رضیہ ہی میرے ساتھ ڈیوٹی پر تھی اور حسب عادت سو رہی تھی. تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے وارڈ کا دروازہ کھلا اور وہ ہی بوڑھا شخص، اسی حلیے میں داخل ہوا. اس نے اسی طرح مسکرا کر میری طرف دیکھا اور ہونٹوں پر انگلی لگا کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا. کچھ لمحات کیلئے تو میں واقعی سکتے میں بیٹھی رہی، مگر پھر اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا. میں چھلانگ لگا کر کھڑی ہوئی، کیبن سے نکلی اور اسکا بازو پکڑ لیا

.کون ہو تم؟ یہاں کیا کرنے آئے ہو؟’ میں نے سرگوشی کے انداز میں لیکن سختی سے پوچھا’
‘میں؟’ اس نے مسکرا کر پوچھا. ‘میں سماعیل ہوں. عائشہ بیگم سے ملنے آیا ہوں’
کیوں ملنے آئے ہو؟ کیا لگتے ہو تم عائشہ آپا کے؟ اور کیا لگتے تھے تم میاں صاحب کے؟’ میرے لہجے میں ابھی بھی سختی نمایاں تھی
میں تمام نیک روحوں کا مربی اور سرپرست ہوں. میاں فرہاد مصطفیٰ کی روح کا، عائشہ بیگم کی روح کا اور تمھاری روح کا بھی، زینب.’ اس کے چہرے پر بدستور وہ شفیق مسکراہٹ رقصاں تھی

میں ایک دفعہ تو کانپ ہی اٹھی

‘آپ موت کا فرشتہ ہیں؟ روح قبض کرنے آتے ہیں یہاں؟’
اس کی مسکراہٹ کچھ اور نمایاں ہوگئ
نہیں زینب میں موت کا فرشتہ نہیں ہوں، میں روحیں قبض نہیں کرتا. میں روحوں کی مسیحائی کرتا ہوں. لیکن صرف نیک روحوں کی مسیحائی
آؤ میرے ساتھ آؤ.’ اس نے نرمی سے میرا ہاتھ پکڑا اور چلتا چلتا عائشہ بیگم کے بیڈ تک پہنچ گیا. میں روبوٹ کی طرح چپ چاپ اس کے ساتھ چلتی گئ

 

عائشہ بیگم کی پائنتی کی طرف کھڑے ہو کر اس نے آہستگی سے، اپنے ہیٹ کے کنارے کو انگلیوں سے چھوا. عائشہ بیگم نے آنکھیں کھولیں، اس کی طرف دیکھا اور ہلکے سے مسکرایئں. سماعیل یا جو کوئی بھی وہ تھا، نے کرسی گھسیٹی اور بیٹھ گیا. میں بھی خاموشی سے وہیں بیڈ پر عائشہ بیگم کے پاؤں کے پاس بیٹھ گئ

.کیسی ہیں آپ؟’ سماعیل نے مسکرا کر پوچھا’
.تکلیف میں ہوں بہت.’ عائشہ بیگم نے جواب دیا. ‘ڈر بھی لگ رہا ہے’
.موت سے ڈر لگ رہا ہے؟’ سماعیل نے پوچھا’
.ہاں! بہت زیادہ. قبر سے بھی ڈر لگ رہا ہے.’ انہوں نے بچوں کی طرح کانپ کر کہا’
میں سمجھتا ہوں سب. مجھے سب معلوم ہے.’ سماعیل نے عائشہ بیگم کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا. ‘موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے. موت ایک دروازہ ہے. موت ایک دہلیز ہے جس کے دونوں پار زندگی ہے. اور قبر میں تو صرف عائشہ جائے گی. آپ خود نہیں ہوں گی
.میں ہی تو عائشہ ہوں.’ عائشہ بیگم نے پریشان ہو کر کہا’
نہیں، عائشہ اس جسم کا نام ہے. آپ کی روح تو بےنام ہے.’ سماعیل نے ہیٹ اتار کر ایک طرف رکھتے ہوئے کہا
اچھا! لیکن موت کے اس پار کونسی زندگی ہے؟ مجھے تو صرف تاریکی نظر آتی ہے.’ عائشہ بیگم کے لہجے میں اب بھی پریشانی نمایاں تھی
نہیں بیگم صاحبہ، ایسا نہیں ہے.’ سماعیل نے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے کہا. ‘موت دو زندگیوں کے درمیان ایک وقفہ ہے. یہاں آپ کی آنکھیں بند ہوں گی اور وہاں کھل جایئں گی
.وہاں کہاں؟’ عائشہ بیگم نے پوچھا’
وہاں اپنی دوسری ماں کے شکم میں.’ سماعیل نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا. ‘روح کو موت نہیں آتی. موت صرف جسم کو آتی ہے. روح تو اپنی جگہ قائم دائم رہتی ہے. آپ اپنی دوسری ماں کے شکم میں نو مہینے گزاریں گی اور پھر ایک نئی زندگی کی ابتدا ہوگی. یہ ہی خدا کا نظام ہے

.لیکن دوسری زندگی کیوں؟ مجھے تو ایک ہی نے تھکا دیا.’ عائشہ بیگم نے بے چینی سے پوچھا’
ایک زندگی کی تھکن، دوسری زندگی میں منتقل نہیں ہوتی.’ سماعیل نے شفقت سے کہا. ‘روح ہلکی کر کے دوسرے بدن میں پھونکی جاتی ہے. اور کیوں پھونکی جاتی ہے؟ اسلئے کیونکہ، اس زندگی کے تمام تجربات اور احساسات، ایک علم کی صورت میں خدا کو منتقل ہوجاتے ہیں. پھر باری آتی ہے نۓ تجربات اور نۓ احساسات کی. پھر باری آتی ہے ایک نۓ جسم اور نئی آنکھوں سے، ایک نئی دنیا اور ایک نۓ وقت کو دیکھنے کی. آپ کے جسم کی مدّت پوری ہوچکی ہے مگر آپ کی روح خدا کی روح کا حصّہ ہے. یہ قائم رہے گی
.’کب تک قائم رہے گی؟’ عائشہ بیگم نے مدھم ہوتی آواز سے پوچھا’
جب تک خدا کا تجربہ اور مقصد قائم ہے، آپ کی روح قائم رہے گی. روح کا سفر جاری رہے گا.’ سماعیل نے جواب دیا اور پھر نرمی سے عائشہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر سہلانے لگا
‘اب آنکھیں بند کر کے سو جایئں. آپ کے جسم کا سفر پورا ہوا’

عائشہ بیگم مسکرائیں اور انہوں نے آنکھیں بند کر لیں. مجھے اپنا وعدہ یاد آیا تو میں نے بھی بڑھ کر انکا دوسرا ہاتھ پکڑ لیا. سماعیل نے پہلے تو مجھے منع کرنا چاہا مگر پھر کچھ سوچ کر مسکرایا اور سر جھکا لیا. مجھے بالکل یوں لگا کے جیسے حرارت کی ایک لہر سماعیل کے جسم سے نکل کر عائشہ بیگم کے جسم میں اور پھر میرے جسم میں سرائیت کر رہی ہو. میں نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں. عائشہ بیگم کی دوسری زندگی، ایک فلم کی مانند، میری نگاہوں کے سامنے دوڑنے لگی. میں نے دیکھا کے عائشہ بیگم، اپنی نئی زندگی میں، اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ، ہنسی خوشی رہ رہی ہیں. میں نے انکی آنکھوں میں چمکتی خوشی دیکھی اور مجھے یقین ہوگیا کے موت خاتمہ نہیں، بلکہ تسلسل کا نام ہے

آہستہ آہستہ میرے جسم میں دوڑتی حرارت کم ہوتی گئ اور میں نے واضح طور پر محسوس کیا کے عائشہ بیگم کا ہاتھ، برف کی طرح ٹھنڈا پڑ گیا تھا. ہارٹ مانیٹر کی مسلسل بیپ سن کر میں نے آنکھیں کھولیں اور نظر اٹھا کر دیکھا. عائشہ بیگم رخصت ہوچکی تھیں

 

.مجھے آپ کی بہت سی باتیں سمجھ نہیں آیئں.’ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے آہستہ سے پوچھا’
.کونسی باتیں؟’ سماعیل نے چونک کر پوچھا’
آپ نے کہا کہ آپ تمام روحوں کے نہیں بلکہ صرف نیک روحوں کے مسیحا ہیں.’ میں نے پوچھا. ‘یہ نیک روحیں کونسی ہیں؟ کیا تمام مسلمانوں کی روحیں؟

خدا کو تمام روحوں سے ایک جیسی محبت ہے. کچھ روحیں نیک ہوتی ہیں اور کچھ بد. مذہب کا روح کی بدی اور نیکی سے کوئی تعلق نہیں. پھر کچھ انسان موت کے بعد زندگی پر یقین رکھتے ہیں. اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے وہ کیا یقین ہے. یقین کی طاقت ان کے دلوں میں موت کا خوف کسی حد تک کم کر دیتا ہے. لیکن ایسے انسانوں کی تعداد بہت کم ہے. میں نے بڑے بڑے عالموں اور مولویوں کو بھی، بے یقینی کے عالم میں مرتے دیکھا ہے. بعض روحوں کا بے یقینی کے عالم میں مرنا انکی جہنم کا آخری عذاب ہوتا ہے. لیکن نیک روحوں کو بے یقینی کے عذاب سے نہیں گزرنا پڑتا. انکی رہنمائی کیلئے مجھے مقرر کیا گیا ہے

اچھا لیکن مذہب تو یہ بتاتا ہے کے موت کے بعد روح، عالم برزخ اور پھر جنّت اور دوزخ میں، اپنے اعمال کے حساب سے جاتی ہے.’ میں نے اس سے پوچھا

دنیا کے سب مذاھب صحیح کہتے ہیں. لیکن مذہب کا ہر فلسفہ ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا.’ سماعیل نے آہستگی سے عائشہ بیگم کا بے جان ہاتھ واپس بستر پر رکھتے ہوئے کہا. ‘تمام انسان اپنی جنّت اور جہنم اپنے کندھوں پر اٹھاے پھرتے ہیں. نیکی کے صلے میں حاصل ہوئی خوشی اور اطمینان، نیکی کا انعام ہوتے ہیں. گناہ کے بدلے کمایا گیا افسوس اور پچھتاوا، گناہ کی سزا ہوتے ہیں

لیکن پھر انصاف کیا ہوا؟ کیا مجھ سے کی جانے والی زیادتیوں کا کوئی حساب نہیں ہوگا؟’ اسکی بات میرے پلے نہیں پڑ سکی تھی

انصاف ضرور ہوتا ہے. اور اسی زندگی میں ہوتا ہے. لیکن کس وقت ہوتا ہے اور کس صورت میں ہوتا ہے، یہ صرف خدا کا فیصلہ ہے.’ سماعیل نے مسکراتے ہوئے کہا

اچھا ایک آخری سوال.’ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا. ‘آپ نے کہا تھا کہ آپ میری روح کے بھی سرپرست ہیں. تو کیا میرے مرتے وقت، آپ مجھے سے ملنے بھی آیئں گے؟
‘ہاں ضرور! کیوں نہیں؟’ سماعیل نے اٹھتے ہوئے کہا. ‘اگر تمھیں ضرورت ہوئی تو ضرور آئوں گا’

یہ کہ کر سماعیل نے میرے سر پر ہاتھ پھیرااور آہستہ آہستہ قدموں سے چلتا وارڈ سے نکل گیا

 

اس کے بعد میری پھر کئی دفعہ، سماعیل سے ملاقات ہوئی. وہ آتا، میری طرف مسکرا کر دیکھتا، اپنا کام کرتا اور پھر چلا جاتا

 

اب میں سرطان کی آخری اسٹیج پر ہوں. مجھے پتا ہے مجھے بہت جلد جانا ہوگا، لیکن مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا. آپ ضرورکہیں گے کے ایسا تو سب کہتے ہیں، مگر اندر سے موت سے ڈر سب کو لگتا ہے. آپ یقین مانئے ایسا نہیں ہے. مجھے اصل میں، موت کا شدّت سے انتظار ہے کیونکہ مجھے علم ہے کے، موت صرف ایک دروازہ ہے، موت صرف ایک دہلیز ہے جس کے اس پار، ایک نئی زندگی میری منتظر ہے

 

یہ انوکھا یقین مجھے میرے مذہب نے نہیں دیا. مذہب یقین نہیں دیتا صرف یقین تک پہنچنے کی سیڑھی مہیا کرتا ہے. سیڑھی چڑھنا نا چڑھنا، یقین رکھنا نا رکھنا، آپ کی اپنی مرضی ہے. یہ یقین مجھے مذھب نے نہیں بلکہ سماعیل نے دیا تھا. سماعیل اصل میں کون تھا؟ یہ تو میں خود بھی نہیں جانتی. میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کے جب میں آخری سانس لے رہی ہوں گی، سماعیل میرے سفر کو آسان کرنے پہنچ جائے گا

4 thoughts on “نیک روحوں کا مسیحا

  1. سمجھ میں نہ آنے والی ایک شاندار تحریر جو سمجھائی بھی نہیں جاسکتی بس صرف اور صرف محسوس کی جا سکتی ہے۔
    تحریر میں سے چند سطریں جو جلی حروف میں لکھی جانے چاہیں۔
    ٭ موت ایک دروازہ ہے. موت ایک دہلیز ہے جس کے دونوں پار زندگی ہے۔
    ٭‘موت دو زندگیوں کے درمیان ایک وقفہ ہے. یہاں آپ کی آنکھیں بند ہوں گی اور وہاں کھل جائیں گی۔
    ٭ایک زندگی کی تھکن، دوسری زندگی میں منتقل نہیں ہوتی۔
    ٭تمام انسان اپنی جنّت اور جہنم اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ نیکی کے صلے میں حاصل ہوئی خوشی اور اطمینان، نیکی کا انعام ہوتے ہیں۔گناہ کے بدلے کمایا گیا افسوس اور پچھتاوا، گناہ کی سزا ہوتے ہیں۔
    ٭انصاف ضرور ہوتا ہے.اور اسی زندگی میں ہوتا ہے.لیکن کس وقت ہوتا ہے اور کس صورت میں ہوتا ہے، یہ صرف خدا کا فیصلہ ہے۔
    ٭مذہب یقین نہیں دیتا صرف یقین تک پہنچنے کی سیڑھی مہیا کرتا ہے۔ سیڑھی چڑھنا نا چڑھنا،یقین رکھنا نا رکھنا، آپ کی اپنی مرضی ہے۔

    Liked by 1 person

  2. قرآن جیسے زندہ جاوید معجزے اور دلیل، منطق اور تجربے سے ثابت شدہ دنیا کی لازوال حقیقت اور انبیاء و رسل کے آدم علیہ السلام سے لیکر نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم تک کے تمام طبقہ انبیاء کی ایک ہی عقیدے اور تعلیم کے نور کو چھوڑ کر جو شخص افسانے پر یقین کرنا چاہتا ھے تو ایسے شخص کی ہلاکت کا خود اسے بھی کوئی افسوس نہیں ھونا چاہیئے –

    Liked by 1 person

    • This is a story Zeeshan sahab. A story not only sometimes portrays reality, it also at times presents an alternative way of looking at things. I respect your beliefs but we must also understand that there are thousands of beliefs in this world. All are different but all are firmly believed in by a group of people, as arduously as you and I.

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s