.شمو! تم میری ماں ہو؟’ مجید پیڑے نے شمو سے بڑی آس سے پوچھا’
دفع دور!’ شمو کے ہاتھ اچانک رک گئے اور اس نے رکھ کر مجید کی گردن پر بےدردی سے، جلتی ہوئی چپت لگائی
‘میں بھلا کیوں ماں ہونے لگی تیری؟’
.تو پھر تو میرا اتنا خیال کیوں رکھتی ہے؟’ مجید بیچارے نے آنسو پینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پوچھا’
اسلئے کہ ٹھیکیدار مجھے تیرا خیال رکھنے کے پیسے دیتا ہے.’ شمو نے مجید کے بالوں میں دوبارہ سے تیل چپڑتے ہوئے کہا
آخر کو تو ٹھیکیدار کا سب سے کماؤ فقیر ہے. تیرے لاڈ نہیں اٹھائے گا تو کیا میرے اٹھائے گا؟’ شمو نے حسرت سے دستی آینے میں اپنی چیچک کے داغوں بھری مدقوق شکل کا معائینہ کرتے ہوئے کہا

I will have to comment privately on both this and your latest story after that.
LikeLiked by 1 person
Gee Sir…I understand! Lol!
LikeLike