کال گرل اور گڑیا

bca4f4f166067540648f1a36740757d1

زندگی کے پیچیدہ اور کانٹوں بھرے راستوں پر مسلسل سفر کرتے، عینی کے لہو لہان پیر کب کے تھک چکے تھے. کچی قبرکی تہہ میں رکھا، سفید کفن میں لپٹا اسکا نازک وجود، اس تکان کی گواہی دے رہا تھا. گورکن نے سیمنٹ کی پہلی سلیب اٹھائی ہی تھی، کے میں نے اسے روک دیا. بغل میں دبائی سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی گڑیا نکالی اور نیچے اتر کر عینی کے پہلو میں احتیاط  کے ساتھ، رکھ دی

خدا حافظ عینی!’ میں نے اس کے پھول سے وجود کو بھاری دل کے ساتھ الوداع کہا اور کفن کے اوپر سے ہی، اس کی پیشانی چوم لی

 

Continue reading