آؤ ذرا کچھ دیر
ذرا کچھ بات کریں

درد کا آخری شہر
ہر امید، ہر خوشی سے
لاتعلق اور بےخبر
آس کی فضاء میں
لامکاں اور بےخطر
ساکت اور معلق ہے
درد کا آخری شہر
زندگی کے امتحان
آزمائشوں کے درمیان
پچھتاووں تلے دبے
خواہشوں کے گورستان
تڑپتا اور سسکتا
کراہتا کھنڈر ہوتا
لا حاصل تمنا اور
ناممکن تعبیر کے درمیان
درد کا آخری شہر
اک دور اندھیری وادی میں
ساکت اور معلق ہے
درد کا آخری شہر
جانے انجانے میں
بہت سوں کی پہچان ہے
کچھ درد کے محبوب ہیں
کچھ درد سے انجان ہیں
کچھ آگہی کے آگے
مجبور اور بےکس
کچھ مایوس اور نادان ہیں
کچھ قسمت کے ہاتھوں
لاچار اور بےبس
کچھ ڈرتے اور پریشان ہیں
کچھ کی درد ہی پہچان ہے
درد کا آخری شہر
اس کے سب دروازوں کے
سب کیواڑ مقفل ہیں
اس کے سب مکانوں کے
سب مکین مردہ ہیں
زندہ ہیں، سانس لیتے ہیں
لیکن مردہ ہیں
حسرتوں کے جنازے
قطار اندر قطار
تکمیل کے کندھوں کے
بے سود انتظار میں
پڑے سڑتے ہیں
درد کا آخری شہر
بس خاموش رہتا ہے
اس کے ہر مکین کی
تڑختی شریانوں کے
لامحدود جالوں میں
کرب کا دریا بہتا ہے
سیاہ گاڑھا خون
کالے پارے کی مانند
رینگتا اور الجھتا ہے
تاریک کناروں کے
سرد پتھروں پر سرسراتا ہے
لیکن خاموش رہتا ہے
درد کا آخری شہر
بہت دور صحیح لیکن
مل جاتا ہے
کوئی اونچی فصیل نہیں
کوئی واضح حد بھی نہیں
مگر پھر بھی
جب ڈھونڈا جائے
مل جاتا ہے
نظروں سے اوجھل ہے
لیکن دلوں کو مل جاتا ہے
ہر کارواں کو، ہر مسافر کو
مل جاتا ہے
درد کا آخری شہر
اس کی مہیب تاریکی میں
اک اکیلی روشنی
ٹمٹماتی ہے
جگمگاتی ہے، مسکراتی ہے
ہمدردی کا دیا جلتا ہے
غم گساری کی لو بھڑکتی ہے
ہر مکین کا دل ہے
دوجے کیلئے دھڑکتا ہے
درد کا آخری شہر اور
اس شہر کے سب باسیوں میں
درد مشترک ہے
#Urdu #poetry #poem #life #desires #regret #pain #frustration #darkness #death #disappointment #desperation #hope #empathy #sensitivity #sharing

یہاں صرف اندھیرا ہے
چاروں سمت اندھیرا ہے
یہاں صرف اندھیرا ہے
چاروں سمت اندھیرا ہے
باہر بھی اور اندر بھی
ظاہر بھی اور باطن بھی
جہالت کا اندھیرا ہے
حماقت کا بسیرا ہے
مذہب بھی، سیاست بھی
حکومت بھی، عبادت بھی
علم بھی، قانون بھی
فرعون بھی، قارون بھی
سب جہل کی تصویر ہیں
مگر ماہر تقریر ہیں
یہاں صرف اندھیرا ہے
چاروں سمت اندھیرا ہے
اندھیرا ہی دستور ہے
اندھیرا ہی شعور ہے
اندھیرے میں سب رہتے ہیں
راضی بازی رہتے ہیں
اندھیرا سب کے اندر ہے
اور اندھیرے سے ہی ڈرتے ہیں
اندھیرے میں رہ کر یہ
اندھیرے کے ڈر سے یہ
اندھی باتیں کرتے ہیں اور
اندھے جھگڑے لڑتے ہیں
یہاں صرف اندھیرا ہے
چاروں سمت اندھیرا ہے
آگے بھی اور پیچھے بھی
اوپر بھی اور نیچے بھی
گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے
سیاہ رات اندھیرا ہے
اندھیرا سب کا ماضی ہے
اور اندھیرا سب کی منزل ہے
ماضی سے منزل تک ساری
راہ پر بھی اندھیرا ہے
اندھیری راہ پر اندھے لوگ
اندھی قوم اور اندھے روگ
یہاں صرف اندھیرا ہے
چاروں سمت اندھیرا ہے
اندھیرے میں اندھے لوگ
اندھی راہ پر چلتے ہیں
ٹھوکر بھی یہ کھاتے ہیں
اور ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں
روتے ہیں پھر اٹھتے ہیں
اندھیرے کو کوسنے دے کر
اندھیرے میں چلتے ہیں
روشنی کی ملامت کر کے
اندھیرے کو ہی چنتے ہیں
اندھیرے کو ہی سنتے ہیں
یہاں صرف اندھیرا ہے
چاروں سمت اندھیرا ہے
اندھیرے کی باتیں ہیں
نفرت کی برساتیں ہیں
خون بھی ان کا کالا ہے
اندھیرے جیسا کالا ہے
کالے خون کی اندھی بھینٹیں
دیتے ہیں اور لیتے ہیں
کالا خون بہاتے ہیں
اور نعرہ اوپر والے کا
زور سے لگاتے ہیں
کبھی نہیں شرماتے ہیں
یہاں صرف اندھیرا ہے
چاروں سمت اندھیرا ہے
اندھیرا ان کا وارث ہے
اندھیرے میں بسنے والے
اندھیروں پر پلنے والے
اندھیری پناہ میں آ کر
اندھیروں سے ڈرنے والے
اندھیرے کو رونے والے
اندھیرے پر ہنسنے والے
یہ اندھے لوگ اکیلے ہیں
دنیا میں بہت اکیلے ہیں
#Urdu #poetry #poem #darkness #black #Pakistan #nation #past #present #future #bleak #aimless #blind #blindness #senseless #faithless #inhuman #stupidity #fools
