آؤ ذرا کچھ دیر
Only Patience can Open this Door
There was a beautiful door
of mahogany, silver and gold
Out of reach forever;
for both
the courageous and the bold
Continue reading
The Boy and the Lake
There once was a little boy called Sebastian, who was fond of wanderings and adventures. In fact, these wanderings and adventures were his ‘walkabout’. What is a ‘walkabout’, you may ask. That is indeed an interesting question.
It is said that once a child reaches puberty amongst the Australian aborigines, he or she is ordered to roam in the wild, preferably under the watchful eye of a tribal elder. So the child wanders here and there and sees all. The sights become perceptions; the perceptions become observations; and the observations become learning.
Though Sebastian was never ordered by anyone to roam; he loved doing it. He loved the tall trees and the green mountains and the blue sky filled with billowing summer clouds. He loved nature and all its wonderful smells.
درد کا آخری شہر
درد کا آخری شہر
ہر امید، ہر خوشی سے
لاتعلق اور بےخبر
آس کی فضاء میں
لامکاں اور بےخطر
ساکت اور معلق ہے
Read more: درد کا آخری شہر
درد کا آخری شہر
زندگی کے امتحان
آزمائشوں کے درمیان
پچھتاووں تلے دبے
خواہشوں کے گورستان
تڑپتا اور سسکتا
کراہتا کھنڈر ہوتا
لا حاصل تمنا اور
ناممکن تعبیر کے درمیان
درد کا آخری شہر
اک دور اندھیری وادی میں
ساکت اور معلق ہے
درد کا آخری شہر
جانے انجانے میں
بہت سوں کی پہچان ہے
کچھ درد کے محبوب ہیں
کچھ درد سے انجان ہیں
کچھ آگہی کے آگے
مجبور اور بےکس
کچھ مایوس اور نادان ہیں
کچھ قسمت کے ہاتھوں
لاچار اور بےبس
کچھ ڈرتے اور پریشان ہیں
کچھ کی درد ہی پہچان ہے
درد کا آخری شہر
اس کے سب دروازوں کے
سب کیواڑ مقفل ہیں
اس کے سب مکانوں کے
سب مکین مردہ ہیں
زندہ ہیں، سانس لیتے ہیں
لیکن مردہ ہیں
حسرتوں کے جنازے
قطار اندر قطار
تکمیل کے کندھوں کے
بے سود انتظار میں
پڑے سڑتے ہیں
درد کا آخری شہر
بس خاموش رہتا ہے
اس کے ہر مکین کی
تڑختی شریانوں کے
لامحدود جالوں میں
کرب کا دریا بہتا ہے
سیاہ گاڑھا خون
کالے پارے کی مانند
رینگتا اور الجھتا ہے
تاریک کناروں کے
سرد پتھروں پر سرسراتا ہے
لیکن خاموش رہتا ہے
درد کا آخری شہر
بہت دور صحیح لیکن
مل جاتا ہے
کوئی اونچی فصیل نہیں
کوئی واضح حد بھی نہیں
مگر پھر بھی
جب ڈھونڈا جائے
مل جاتا ہے
نظروں سے اوجھل ہے
لیکن دلوں کو مل جاتا ہے
ہر کارواں کو، ہر مسافر کو
مل جاتا ہے
درد کا آخری شہر
اس کی مہیب تاریکی میں
اک اکیلی روشنی
ٹمٹماتی ہے
جگمگاتی ہے، مسکراتی ہے
ہمدردی کا دیا جلتا ہے
غم گساری کی لو بھڑکتی ہے
ہر مکین کا دل ہے
دوجے کیلئے دھڑکتا ہے
درد کا آخری شہر اور
اس شہر کے سب باسیوں میں
درد مشترک ہے
#Urdu #poetry #poem #life #desires #regret #pain #frustration #darkness #death #disappointment #desperation #hope #empathy #sensitivity #sharing



